کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 340
بات) کو جانتے اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو اللہ کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔اے کاش! وہ اس سے واقف ہوتے۔‘‘ -4 نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کے آداب: سورۃ البقرۃ (آیت:۱۰۴) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ’’اے اہلِ ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبر سے) ’’رَاعِنَا‘‘ نہ کہا کرو اور ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہا کرو اور خوب سن رکھو اور کافروں کے لیے دُکھ دینے والا عذاب ہے۔‘‘ ’’رَاعِنَا‘‘ کے معنیٰ ہیں ہمارا لحاظ اور خیال کیجیے۔بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کرکے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا،لیکن یہودی اپنے بُغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے،جس سے اس کے معنیٰ میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہو جاتی،مثلاً وہ کہتے:’’رَاعِیْنَا‘‘ (ہمارا چرواہا) جیسے وہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ کے بجائے ’’اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ‘‘ (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے،بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو،ادب و احترام کے پیشِ نظر اور سدِ ذریعہ کے طور پر ان کا استعمال کرنا صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کفار کے ساتھ افعال اور اقوال میں مشابہت کرنے سے بچا جائے،تاکہ مسلمان جو کسی کی مشابہت اختیار کرے گا،وہ انہی میں شمار ہوگا۔‘‘ کی وعید میں داخل نہ ہوں۔[1] [1] سنن أبي داود،کتاب اللباس (۴۰۳۱) و حسنہٗ الألباني في حجاب المرأۃ (ص: ۱۰۴)