کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 325
-323 درسِ توحید: سورۃ الاخلاص (آیت:۱ تا ۴) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ . اَللّٰہُ الصَّمَدُ . لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ . وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ} شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔’’کہو کہ وہ (ذاتِ پاک جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔(وہ) معبودِ برحق جو بے نیاز ہے۔وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔اورکوئی اس کا ہمسر نہیں۔‘‘ یہ سورۃ الاخلاص مختصر سی ہے،مگر بڑی فضیلت کی حامل ہے۔اسے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثلث (ایک تہائی) قرآن قرار دیا ہے اور اسے رات کو پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔[1] بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ہر رکعت میں دیگر سورتوں کے ساتھ اسے بھی ضرور پڑھتے تھے۔جس پر نبیِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تمھاری اس کے ساتھ محبت تمھیں جنت میں داخل کردے گی۔‘‘[2] اس کا سببِ نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب بیان کرو۔اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔[3] اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان: حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ ہم حضرت عزیر علیہ السلام کو [1] صحیح البخاري،کتاب فضائل القرآن (۳/ ۵۰) [2] صحیح البخاري،کتاب الأذان (۷۷۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۳) [3] مسند أحمد (۵/ ۱۳۳،۱۳۴)