کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 313
اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتلایا ہے (عدت کے آغاز میں طلاق دو)،یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس سے ہم بستری کے بغیر طلاق دو۔حالتِ طہر اس کی عدت کا آغاز ہے۔ عدت کی ابتدا اور انتہا کا خیال رکھو،تاکہ عورت اس کے بعد نکاح ثانی کر سکے،یا اگر تم ہی رجوع کرنا چاہو،( پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں ) تو عدت کے اندر رجوع کر سکو۔ -307 رجوع اور انقضاے عدت: سورۃ الطلاق (آیت:۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا} ’’پھر جب وہ اپنی میعاد (انقضاے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح سے (زوجیت میں ) رہنے دو یا اچھی طرح سے علاحدہ کر دو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کر لو اور (گواہو!) اللہ کے لیے درست گواہی دینا،ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جوا للہ پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا،وہ اس کے لیے (رنج و غم سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کر دے گا۔‘‘ -308 تقویٰ وتوکّل والوں کو رزقِ فراواں: سورۃ الطلاق (آیت:۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ