کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 303
{وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْھِمْ وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ . وَالَّذِیْنَ جَآئُوْا مِنْم بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلاَ تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ} ’’اور (ان لوگوں کے لیے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں،ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا،اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور) خلش نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں،خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اور جو شخص حرصِ نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔اور (ان کے لیے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں،گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (و حسد) نہ پیدا ہونے دے،اے ہمارے پروردگار! تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ -298 فکرِ آخرت کا حکم: سورۃ الحشر (آیت:۱۸ ) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ}