کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 298
سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں،وہ ان کی مائیں نہیں (ہو جاتیں ) ان کی مائیں تو وہی ہیں،جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے،بے شک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے الا ہے۔اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں،پھر اپنے قول سے رجوع کر لیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے،(مومنو!) اس (حکم) سے تمھیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔جس کو غلام نہ ملے وہ چھونے سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے رکھے،جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو،(اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لیے (ہے) کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہو جاؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔‘‘ ان آیات میں مسئلہ ظِہار کا کفارہ بیان فرمایا گیا ہے۔[1] تمھارے کہہ دینے سے تمھاری بیوی تمھاری ماں نہیں بن جائے گی۔اگر ماں کی بجائے کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن وغیرہ کی پیٹھ کی طرح اپنی بیوی کو کہہ دے تو یہ ظِہار ہے یا نہیں ؟ امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ نے اسے بھی ظِہار قرار دیا ہے،جبکہ دوسرے علما اسے ظِہار تسلیم نہیں کرتے۔پہلا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ پیٹھ کی جگہ اگر کوئی یہ کہہ دے تو میری ماں کی طرح ہے، [1] تفسیر ابن کثیر (۵/ ۲۷۸)