کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 296
(بلکہ یوں ) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمھارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو اللہ تمھارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا،بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ بعض مفسرین کے نزدیک ان دیہاتیوں سے مراد بنو اسد اور بنو خزیمہ کے منافقین ہیں،جنھوں نے قحط سالی میں محض صدقات کی وصولی کے لیے یا قتل ہونے اور قیدی بننے کے اندیشے کے پیشِ نظر زبان سے اسلام کا اظہار کیا تھا اور ان کے دل ایمان،اعتقادِ صحیح اور خلوصِ نیت سے خالی تھے۔لیکن امام ابن کثیر رحمہ اللہ کے نزدیک ان سے وہ اعراب (بادیہ نشین) مراد ہیں،جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ایمان ابھی ان کے اندر پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا،لیکن دعویٰ انھوں نے اپنی اصل حیثیت سے بڑھ کر ایمان کا کیا تھا۔جس پر انھیں یہ ادب سکھایا گیا کہ پہلے مرتبے پر ہی ایمان کا دعویٰ صحیح نہیں،آہستہ آہستہ ترقی کے بعد تم ایمان کے مرتبے پر پہنچو گے۔ -291 اہلِ ایمان کے اوصاف: سورۃ الحجرات (آیت:۱۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ} ’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے،پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے لڑے،یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔‘‘[1] [1] جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں حصولِ تعلیم کے دوران میں ہم نے شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود محدّث جلال پوری کے نمازِ فجر کے بعد کے درسِ قرآن،تفسیر سورۃ الحجرات کو مرتّب کر کے ہفت روزہ ’’اہلِ حدیث‘‘ لاہور میں قسط وار شائع کروایا تھا،جو اَب الگ سے بھی شائع کرنے کا ارادہ ہے۔