کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 293
آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئیں۔[1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ان کی اکثریت بے عقل ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے تقاضوں کا خیا ل نہ رکھنا،بے عقلی ہے۔یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود باہر نکلنے کا انتظار کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دینے میں جلدی نہ کرتے تو ان کے لیے دین اور دنیا دونو ں لحاظ سے بہتر ہوتا۔ -287 خبر کی تحقیق کرلینا: سورۃ الحجرات (آیت:۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًام بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ} ’’مومنو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو کہ (مبادا) کسی قوم کونادانی سے نقصان پہنچا دو،پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو اور جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہوجائے،کوئی حرکت نہ کرو۔[2] یہ آیت اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا،لیکن انھوں نے آکر یوں ہی رپورٹ دے دی کہ انھوں نے زکات دینے سے انکار کردیا ہے،جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف فوج کشی کا ارادہ فرما لیا،تاہم پھر پتا لگ گیا کہ یہ بات غلط تھی اور حضرت ولید رضی اللہ عنہ تو وہاں گئے [1] مسند أحمد (۳/ ۴۸۸،۶/ ۳۹۴) [2] تفسیر ابن کثیر (۵/ ۱۴۶)