کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 289
آدمی قابو میں آجائیں،انھیں قیدی بنالو اور مضبوطی سے انھیں جکڑ کر رکھو،تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔ -282 نصرتِ الٰہی کے حصول کی شرط: سورت محمد (آیت:۷) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ} ’’اے اہلِ ایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمھاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ اللہ کی مدد کرنے کا مطلب،اللہ کے دین کی مدد ہے،کیونکہ وہ اسباب کے مطابق اپنے مومن بندوں کے ذریعے ہی سے کرتا ہے۔یہ مومن بندے اللہ کے دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے۔یعنی انھیں کافروں پر فتح و غلبہ عطا کرتا ہے،جیسے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی روشن تاریخ ہے۔وہ دین کے ہوگئے تھے تو اللہ بھی ان کا ہوگیا تھا۔انھوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ نے انھیں بھی غالب فرما دیا۔سورۃ الحج (آیت:۴۰) میں بھی یہی موضوع بیان ہوا ہے۔ -283 اپنے اور اہلِ ایمان کے لیے مغفرت مانگنا: سورت محمد (آیت:۱۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَم وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰکُمْ} ’’پس جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی