کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 287
{لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُھُورِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ . وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ} ’’تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ،پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو او رکہو کہ وہ (ذات) پاک ہے،جس نے اس کو ہمارے زیرِ فرماں کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کر لیتے۔اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے اور{سُبْحانَ الَّذِیْ۔۔۔}سے{لَمُنقَلِبُونَ}تک آیت پڑھتے۔علاوہ ازیں خیر و عافیت کی دعا مانگتے،جو دعاؤں کی کتابوں میں دیکھ لی جائے۔[1] -280 اولوا العزم رسولوں علیہم السلام کے اوصاف اور دنیا کی بے ثباتی: پارہ26{حٓم}سورۃ الاحقاف (آیت:۳۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّھَارٍ بَلٰغٌ فَھَلْ یُھْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ} ’’پس (اے نبی!) جس طرح عالی ہمت پیغمبر صبرکرتے رہے ہیں،اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لیے (عذاب) جلدی نہ مانگو،جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال [1] صحیح مسلم،کتاب الحج (۱۳۴۲) دعاؤں کے موضوع پر ہماری دو کتابیں الحمد ﷲ شائع ہوچکی ہیں : 1 آدابِ دعا،اوقات و مقاماتِ قبولیت۔2 ذکرِ الٰہی (۶۰۰ کے قریب قرآن و حدیث کی دعائیں )۔(ابو عدنان)