کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 285
رکھتے ہیں۔اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے،اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قراری اور حقارت بیان فرمائی ہے کہ اسے جمع کرکے کسی کو پھولنا نہ چاہیے،کیونکہ یہ فانی چیز ہے،بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنا چاہیے،نیک اعمال کرکے ثواب جمع کریں۔[1] لوگوں سے عفو و در گزر کرنا اہلِ ایمان کے مزاج و طبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا،جس طرح نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا،ہاں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اہلِ ایمان ہر اہم کام باہمی مشاورت سے کرتے ہیں،اپنی ہی رائے کو حرفِ آخر نہیں سمجھتے۔خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ نے حکم دیا کہ مسلمانوں سے مشورہ کرو۔چنانچہ آپ جنگی معاملات اور دیگر اہم کاموں میں مشاورت کا اہتمام فرماتے تھے۔جس سے مسلمانوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی تھی اور معاملے کے مختلف گوشے واضح ہوجاتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب نیزے کے وار سے زخمی ہوگئے اور زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو امرِ خلافت میں مشاورت کے لیے چھے آدمی نامزد فرما دیے۔حضرت عثمان،علی،طلحہ،زبیر،سعد اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم۔انھوں نے باہم مشورہ کیا اور دیگر لوگوں سے بھی مشاورت کی اور اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت [1] تفسیر ابن کثیر (۵/ ۲۲)