کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 275
{یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلِّ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَ نِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا} ’’اے پیغمبر! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (منہ) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں،یہ اَمر ان کے لیے موجبِ شناخت (وامتیاز) ہو گا تو کوئی اُن کو ایذا نہ دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[1] -265 فوز و فلاح والے کام: سورۃ الاحزاب (آیت:۷۰،۷۱) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا . یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ’’مومنو! اللہ سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو۔وہ تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بے شک بڑی مراد پائے گا۔‘‘ مومن کو سیدھی بات کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے تقوے کی ہدایت کرتا اور ان سے فرماتا ہے کہ وہ اس طرح اس کی عبادت کریں،گویا اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور بات بالکل صاف سیدھی اور بھلی کیا کریں۔[2] [1] ’’وجوبِ نقاب و حجاب‘‘ کے دلائل پر مشتمل ہماری مفصل کتاب مکتبہ کتاب و سنت ریحان چیمہ (سیالکوٹ ) کی طرف سے شائع ہوچکی ہے۔تَقَبَّلَہُ اللّٰہُ۔(ابو عدنان ) [2] تفسیر ابن کثیر (۴/ ۲۶۸)