کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 274
اس مقام پر عورتوں کو تقوے کا حکم دے کر واضح کر دیا کہ اگر تمھارے دلوں میں تقویٰ ہوگا تو پردے کا جو اصل مقصد،قلب و نظر کی طہارت اور عصمت کی حفاظت ہے،وہ یقینا تمھیں حاصل ہوگا،ورنہ حجاب کی ظاہری پابندیاں تمھیں گناہ میں ملوث ہونے سے نہیں بچا سکیں گی۔ -263 نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا حکم: سورۃ الاحزاب (آیت:۵۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} ’’اللہ اور اُس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں،مومنو! تم بھی اُن پر درود اور سلام بھیجا کرو۔‘‘ اس آیت میں نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو آسمانوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا و تعریف کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندیِ درجات کی دعا کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلات اور سلام بھیجیں،تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہو جائیں۔[1] -264 نقاب و حجاب کا حکم: سورۃ الاحزاب (آیت:۵۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] ’’درود شریف کے فضائل و مسائل‘‘ پر مشتمل ہماری کتاب نور اسلام اکیڈمی لاہور کی طرف سے شائع ہوچکی ہے۔وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ۔(ابو عدنان )