کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 273
ہمیں اس کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔[1] 2۔سورۃ الحاقہ (آیت:۵۲) میں ارشادِ الٰہی ہے: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} ’’سو تم اپنے پروردگار کے نام کی تنزیہ و تسبیح کرتے رہو۔‘‘ -262 مَحرم۔۔۔جن سے پردہ فرض نہیں: سورۃ الاحزاب (آیت:۵۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا جُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْٓ اٰبَآئِھِنَّ وَ لَآ اَبْنَآئِھِنَّ وَ لَآ اِخْوَانِھِنَّ وَ لَآ اَبْنَآئِ اِخْوَانِھِنَّ وَ لَآ اَبْنَآئِ اَخَوٰتِھِنَّ وَ لَا نِسَآئِھِنَّ وَ لَا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدًا} ’’عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں ) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو،بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ جب عورتوں کے لیے پردے کا حکم نازل ہوا تو پھر گھروں میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے جانے والے رشتے داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں ؟ چنانچہ اس آیت میں اُن اقارب کا ذکر کر دیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں۔اس کی تفصیل سورۃ النور کی آیت (۳۱) میں بھی آئی ہے،اسے کتاب کے دوسرے حصہ ’’منکرات و ممنوعات‘‘ میں سورۃ النور کے ضمن میں ’’محرموں کے سوا کسی کے لیے زینت ظاہر نہ کرنا‘‘ میں ملاحظہ فرما لیا جائے۔ [1] تفسیر ابن کثیر (۴/ ۴۴۱)