کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 265
ہے۔چال بھی اتنی سُست نہ ہو،جیسے کوئی بیمار ہو اور نہ اتنی تیز ہو کہ شرف و وقار کے خلاف ہو۔[1] -254 اللہ کی فرماں برداری پر انعام: سورت لقمان (آیت:۲۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗٓ اِلَی اللّٰہِ وَ ھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ} ’’اور جو شخص اپنے آپ کو اللہ کا فرمانبردار کر دے اور نیکوکار بھی ہو تو اُس نے مضبوط کڑا ہاتھ میں لے لیا اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ -255 روزِ قیامت کا خوف اور فریبِ زندگی: سورت لقمان (آیت:۳۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ وَ لَا مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْئًا اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ لَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ} ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آ سکے،بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ اگر باپ چاہے کہ بیٹے کو بچا نے کے لیے اپنی جان [1] تفسیر أحسن البیان (ص: ۹۳۹)