کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 253
بُیُوتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوتِ اُمَّھٰتِکُمْ اَوْ بُیُوتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗٓ اَوْ صَدِیقِکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا} ’’اندھے پر،لنگڑے پر،بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھا ئیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کے کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے،تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائو یا الگ الگ۔‘‘ بعض علما نے صراحت کی ہے کہ اس سے وہ عام قسم کا کھانا مراد ہے،جس کے کھاجانے سے کسی کو گرانی محسوس نہیں ہوتی۔البتہ ایسی عمدہ چیزیں جو مالکوں نے خصوصی طور پر الگ چھپاکر رکھی ہوں،تاکہ کسی کی نظر ان پر نہ پڑے،اسی طرح ذخیرہ شدہ چیزیں،ان کا کھانا اور ان کو اپنے مقصد میں لانا جائز نہیں۔[1] اسی طرح بیٹوں کے گھر انسان کے اپنے ہی گھر ہیں،جس طرح حدیث میں ہے: (( أَنْتَ وَمَالُکَ لِأَبِیْکَ )) [2] تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔‘‘ دوسری حدیث ہے: (( وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ کَسْبِہٖ )) [3]آدمی کی اولاد اس کی کمائی سے ہے۔‘‘ [1] أیسر التفاسیر للجزائري (۳/ ۵۹۱) [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۲۹۱) مسند أحمد (۲؍ ۱۷۹) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۵۲۸ وصححہ الألباني) سنن ابن ماجہ (۲۱۳۷)