کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 245
{اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ . وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ . وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ} ’’ اور بُری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے۔اور کہو کہ ا ے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اور اے پروردگار! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ موجود ہوں۔‘‘ 2۔جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا: {وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُ ادْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ}[حم السجدۃ:۳۴] ’’برائی ایسے طریقے سے دور کرو جو اچھا ہو،اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمھارا دشمن بھی،تمھارا گہرا دوست بن جائے گا۔‘‘ سورۃ الاعراف (آیت:۲۰۰) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} ’’اور اگر تمھیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو،بے شک وہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شیطان سے اس طرح اﷲ کی پناہ مانگتے: (( اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِ ہٖ وَ نَفْخِہٖ وَ نَفْثِہٖ )) [1] نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی کہ ہر اہم کام کی ابتدا اللہ کے نام سے کرو، [1] سنن أبي داود،کتاب الصلاۃ (۷۷۵) سنن الترمذي،کتاب الصلاۃ (۲۴۲)