کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 242
تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت ظاہر ہوگئے۔‘‘[1] 3۔سورۃ المعارج (آیت:۱۹ سے ۳۵) میں ارشادِ الٰہی ہے: {اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا . اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا . وَاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا . اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ . الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَتِھِمْ دَآئِمُوْنَ . وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ . لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ . وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ . وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ . اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ . وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ . اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ . فَمَنِ ابْتَغَی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ . وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ . وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰتِھِمْ قَآئِمُوْنَ . وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ . اُولٰٓئِکَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ} ’’کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے۔جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔اور جب آسایش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔مگر نماز گزار۔جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلاناغہ پڑھتے) ہیں۔اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔(یعنی) مانگنے والے کا اور نہ مانگنے والے کا۔اور جو روزِ جزا کو سچ سمجھتے ہیں۔اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔بے شک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بے خوف نہ ہوا جائے۔اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے [1] صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب ادنیٰ أہل الجنۃ۔۔۔(۱۹۰)