کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 229
6۔سورۃ الفرقان (آیت:۵۸) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا} ’’اور اس (اللہ) زندہ پر بھروسا رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اُس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے۔‘‘ 223۔صرف عبادتِ الٰہی پر ثواب: پارہ 17{اِقْتَرَبَ}سورۃ الانبیاء (آیت:۹۲ تا ۹۴) میں فرمایا: {اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ . وَ تَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ . فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ} ’’یہ تمھاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمھارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہو گئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہو گا تو اُس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لیے (ثوابِ اعمال) لکھ رہے ہیں۔‘‘ لوگ دین،توحید اور عبادت کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے،ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہو گیا اور انبیا و رسل کے ماننے والے بھی گروہ بن گئے،کوئی یہودی ہو گیا،کوئی عیسائی،کوئی کچھ،اور بدقسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہو گئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ان سب کا فیصلہ،جب یہ بارگاہِ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گے تو وہیں ہوگا۔