کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 226
’’جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے،تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب بھی اسے یاد آ جائے پڑھ لے۔‘‘[1] 221۔مومن بے خوف و خطر: سورت طٰہٰ (آیت:۱۱۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا ھَضْمًا} ’’اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہو گا تو اُس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا۔‘‘ ظلم و نا انصافی یہ ہے کہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جائے اور نقصان و حق تلفی یہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کم دیا جائے۔یہ دونوں باتیں وہاں نہیں ہوں گی۔ 222۔صبر اور تسبیح و تحمید: 1۔سورت طٰہٰ (آیت:۱۳۰) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِھَا وَ مِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی} ’’پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیا کرو اور رات کی ساعات میں بھی اُس کی تسبیح کیا کرو اور دن کے اطراف [1] صحیح البخاري،کتاب المواقیت (۵۹۷) صحیح مسلم،کتاب المساجد (۳۱۵۔۶۸۴)