کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 209
بلکہ ساری کائنات کا نظم و تدبیر وہ اس طرح کر رہا ہے کہ کبھی کسی کا آپس میں تصادم نہیں ہوا،ہر چیز اس کے حکم پر اپنے اپنے کام میں مصروف ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہاں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ اجازت بھی صرف انھیں لوگوں کے لیے ہوگی جن کے لیے اللہ پسند کرے۔[1] 199۔توبہ واستغفار: 1۔سورت ھود (آیت:۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ} ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو،وہ تمھیں ایک وقت مقرر تک متاعِ نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحبِ بزرگی کو اُس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر رُوگردانی کرو گے تو مجھے تمھارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔‘‘ اس سامانِ دنیا کو جس کو قرآن نے عام طور پر ’’متاعِ غرور‘‘ دھوکے کا سامان کہا ہے،یہاں اسے ’’متاعِ حسن‘‘ قرار دیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آخرت سے غافل ہو کر متاعِ دنیا سے استفادہ کر لے گا،اس کے لیے یہ متاعِ غرور ہے،کیوں کہ اس کے بعد اسے برے انجام سے دو چار ہونا ہے اور جو آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ اٹھائے گا،اس کے لیے یہ چند روزہ سامانِ زندگی متاعِ حسن ہے،کیونکہ اس نے اسے اللہ کے احکام کے مطابق برتا ہے۔ 2۔سورۃالمومن (آیت:۵۵) میں ارشادِ الٰہی ہے: [1] نیز دیکھیں : سورۃ الأنبیاء [آیت: ۲۸] سورۃ النجم [آیت: ۲۶]