کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 206
شوکانی رحمہ اللہ نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ 6 غارمین سے وہ مقروض مراد ہیں جو اپنے اہل و عیال کے نان و نفقہ اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہو گئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔ 7 فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے،یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد ( چاہے وہ مال دار ہی ہو) پر زکات کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حج و عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے۔اسی طرح بعض علما کے نزدیک تبلیغ و دعوت بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے،کیوں کہ اس سے بھی مقصد،جہاد کی طرح اعلاے کلمۃ اللہ ہے۔ 8 مسافر،یعنی اگر کوئی مسافر سفر میں مستحقِ امداد ہو گیا ہے،چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحبِ حیثیت ہی ہو،اس کی امداد زکات کی رقم سے کی جا سکتی ہے۔[1] 195۔اہلِ ایمان کے لیے بشارت: سورۃ التوبہ (آیت:۱۱۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ} ’’توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے،حمد و ثنا کرنے والے،روزہ رکھنے والے،رکوع کرنے والے،سجدہ کرنے والے،نیک کاموں کا حکم کرنے والے اور بُری باتوں سے منع کرنے والے،اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں ) اور اے پیغمبر! مومنوں کو (جنت کی) خوشخبری سنادو۔‘‘ [1] أحسن البیان تفسیر آیت مذکورہ (ص: ۴۴۱۔۴۴۲)