کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 203
{اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ} ’’انھوں نے اپنے علما اور مشائخ اور مسیح ابنِ مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا،حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔‘‘ اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہو جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر عرض کی کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علما کی کبھی عبادت نہیں کی،پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انھوں نے ان کو رب بنا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ ٹھیک ہے کہ انھوں نے ان کی عبادت نہیں کی،لیکن یہ بات تو ہے نہ کہ ان کے علما نے جس کو حلال قرار دے دیا،اس کو انھوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کر دیا،اس کو حرام ہی سمجھا۔یہی ان کی عبادت کرنا ہے۔‘‘[1] 193۔مشرکین سے جہاد: 1۔سورۃ التوبہ (آیت:۳۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ} ’’اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو،جیسے وہ سب کے سب تم سے [1] صحیح سنن الترمذي للألباني،رقم الحدیث (۲۴۷۱)