کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 197
ایک دوسری تفسیر کے مطابق جب اہلِ کتاب نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انھیں دوگنا اجر ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔[1] 186۔مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ: پارہ 10{وَاعْلَمُوْا }سورۃ الانفال (آیت:۴۱) میں فرمایا: {وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ’’اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) حاصل کرو،اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا اور اس کے رسول کا اور اہلِ قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے،اگر تم اللہ پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو،جو (حق و باطل میں ) فرق کرنے کے دن (جنگِ بدر میں ) جس دن دونوں فوجوں میں مڈ بھیڑ ہو گئی،اپنے بندے (نبی) پر نازل فرمائی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو کافروں سے لڑائی میں فتح و غلبہ حاصل ہونے کے بعد حاصل ہو۔پہلی امتوں میں اس کے لیے یہ طریقہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد کافروں سے حاصل کردہ سارا مال ایک جگہ ڈھیر کر دیا جاتا اور آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر بھسم کر ڈالتی۔لیکن امتِ مسلمہ کے لیے یہ مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا اور جو مال لڑائی کے بغیر صلح کے ذریعے یا جزیہ و خراج سے وصول ہو اسے فے کہا جاتا ہے،تھوڑا ہو یا زیادہ،قیمتی ہو یا معمولی،سب کو جمع کرکے اس کی حسبِ ضابطہ تقسیم کی جائے [1] تفصیل کے لیے دیکھیں : مختصر تفسیر ابن کثیر للرفاعي (۴/ ۱۹۰)