کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 191
179۔زمین میں فساد نہ کرو: 1۔سورۃ الاعراف (آیت:۵۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ} ’’اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور اللہ سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا،کچھ شک نہیں کہ اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔‘‘ ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے: 1 اللہ تعالیٰ سے آہ و زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے،جس طرح کہ حدیث میں آتا ہے: ’’لوگو! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (یعنی آواز پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو،وہ بہرا ہے نہ غائب،وہ تمھاری دعائیں سننے والا اور بہت قریب ہے۔‘‘[1] 2 دعا میں زیادتی نہ کی جائے،یعنی دعا میں تکلف نہ کیا جائے،بے جا شرطیں نہ لگائی جائیں۔ 3 اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے،یعنی اللہ کی نافرمانیاں کرکے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ 4 اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی۔اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں۔یقینا اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے۔ 2۔سورۃ الرعد (آیت:۲۵) میں فرمانِ الٰہی ہے: [1] صحیح البخاري،کتاب الدعوات (۶۳۸۴) صحیح مسلم،کتاب الجنۃ (۴۴/ ۲۷۰۴)