کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 190
اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور خالص رضاے الٰہی کے لیے ہو۔اس آیت میں ان ہی باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔ 177۔نماز کے لیے زینت اختیار کرنا اور فضول خرچی سے پرہیز کرنا: سورۃ الاعراف (آیت:۳۱) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ} ’’اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو مزین کیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور بے جا نہ اڑاؤ کہ اللہ بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ ’’اِسْرَافٌ‘‘ (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کہ کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے۔ایک حدیث میں نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو چاہو کھائو،جو چاہو پیو اور جو چاہو پہنو،البتہ دو باتوں سے گریز کرو:اسراف اور تکبر سے۔‘‘[1] بعض ائمہ سلف کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدھی آیت{کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا}میں ساری طب جمع فرما دی ہے۔[2] 178۔عاجزی اور چپکے سے دعائیں کرنا: سورۃ الاعراف (آیت:۵۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ} ’’(لوگو!) اپنے رب سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو،کیوں کہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ [1] صحیح البخاري،کتاب اللباس (۵۷۸۳) [2] تفسیر ابن کثیر اردو (۲/ ۱۵۷)