کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 184
جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ظلم کا عام مطلب (کوتاہی اور غلطی،گناہ اور زیادتی وغیرہ) سمجھا،جس سے وہ پریشان ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر کہنے لگے:ہم میں سے کو ن شخص ایسا ہے جس نے ظلم (گناہ) نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس ظلم سے مراد وہ ظلم نہیں جو تم سمجھ رہے ہو،بلکہ اس سے مراد شرک ہے،جس طرح حضرت لقمان علیہ السلام نے (سورت لقمان:۱۳) اپنے بیٹے کو کہا: {اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ}’’یقینا شرک ظلمِ عظیم ہے۔‘‘[1] 107۔تکبیر پڑھ کر ذبح یا شکار کیے جانور کا گوشت: پارہ8{وَلَوْ اَنَّنَا}سورۃ الانعام (آیت:۱۱۸) میں فرمایا: {فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ} ’’جس چیز پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا جائے،اگر تم اُس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اُسے کھا لیا کرو۔‘‘ جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے،اسے کھالو،بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہو،جن کا کھانا حلال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے،وہ حلال اور طیب نہیں۔البتہ اس سے ایسی صورت مستثنیٰ ہے،جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ؟ اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد اعرابی تھے،جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم و تربیت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے) [1] صحیح البخاري،کتاب التفسیر (۴۶۲۹)