کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 175
ہے۔البتہ امام شافعی نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے،جس میں رمضان میں روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرنے والے کے کفارہ کا ذکر ہے،ایک مد(تقریباً ۱۰ چھٹانک) فی مسکین خوراک قرار دی ہے،کیونکہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کفارہ جماع ادا کرنے کے لیے ۱۵ صاع کھجوریں دی تھیں،جنھیں ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کرنا تھا،ایک صاع میں ۴ مد ہوتے ہیں،اس اعتبار سے بغیر سالن کے دس مسکینوں کے لیے دس مد (سوا چھے سیر یا چھے کلو) خوراک کفارہ ہوگی۔[1] لباس کے بارے میں اختلاف ہے۔بہ ظاہر مراد جوڑا ہے،جس میں انسان نماز پڑھ سکے۔بعض علما خوراک اور لباس دونوں کے لیے عرف کو معتبر قرار دیتے ہیں۔[2] بعض علما قتلِ خطا کی دیت پر قیاس کرتے ہوئے لونڈی،غلام کے لیے ایمان کی شرط عائد کرتے ہیں۔امام شوکانی کہتے ہیں کہ آیت میں عموم ہے،جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے۔ جس کو مذکورہ تینوں چیزوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے،یہ روزے اس کی قسم کا کفارہ ہو جائیں گے۔بعض علما پے در پے روزے رکھنے کے قائل ہیں۔ 96۔اطاعت و خوف: سورۃ المائدۃ (آیت:۹۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ} ’’اور اللہ کی فرماں برداری اور رسول کی فرماں برداری کرتے رہو اور [1] تفسیر ابن کثیر اردو (۲/ ۸) طبع مکتبہ قدوسیہ لاھور [2] مختصر تفسیر ابن کثیر للرفاعي (۱/ ۵۵۹)