کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 165
ہے۔مراد شکاری کتا،باز،چیتا،شقرا اور دیگر شکاری پرندے اور درندے ہیں۔{مُکَلِّبِیْنَ}کا مطلب ہے شکار پر چھوڑنے سے پہلے ان کو شکار کے لیے سدھایا گیا ہو۔سدھانے کا مطلب ہے،جب اسے شکار پر چھوڑا جائے تو دوڑتا ہوا جائے،جب روک دیا جائے تو رک جائے اور بلایا جائے تو واپس آجائے۔ ایسے سدھائے ہوئے جانوروں کا شکار کیا ہوا جانور دو شرطوں کے ساتھ حلال ہے۔ایک یہ کہ اسے شکار کے لیے چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لی گئی ہو۔دوسری یہ کہ شکاری جانور شکار کرکے اپنے مالک کے لیے رکھ چھوڑے اور اسی کا انتظار کرے،خود نہ کھائے۔حتیٰ کہ اگر اس نے مار بھی ڈالا ہو،تب بھی مقتول شکار شدہ جانور حلال ہوگا،بشرطیکہ اس کے شکار میں سدھائے اور چھوڑے ہوئے جانور کے علاوہ کسی اور جانور نے شرکت نہ کی ہو۔[1] 87۔اہلِ کتاب کا کھانا اور عورتیں: سورۃ المائدہ (آیت:۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَ طَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّھُمْ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ } ’’آج تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہلِ کتاب کا کھانا بھی تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا اُن کو حلال ہے،اور [1] صحیح البخاري،کتاب الذبائح (۵۴۸۳) صحیح مسلم،کتاب الصید (۱/ ۱۹۲۹)