کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 159
(آخر الزماں ) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں،سب پر ایمان لاؤ اور جو شخص اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں اور روزِ قیامت سے انکار کرے،وہ راستے سے بھٹک کر دُور جا پڑا۔‘‘ فرمایا:اے مومنو! ایمان لاؤ:(۱)اللہ پر (۲)اس کے رسول پر (۳)کتاب پر جو اس نے نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے نازل کی اس سے پہلے۔ ایمان کے ان مذکورہ بالا تین ارکان کے علاوہ (۴)فرشتوں پر ایمان لانا اور (۵)تقدیرِخیر و شرّ پر ایمان لانا اور (۶)روزِ آخرت پر ایمان لانا بھی ارکانِ ایمان میں شامل ہے۔ 80۔علانیہ یا پوشیدہ نیکی اور درگزر کرنا: سورۃ النساء (آیت:۱۴۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا} ’’اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر،یا بُرائی سے درگزر کرو گے تو اللہ بھی معاف کرے والا (اور) قدرت والا ہے۔‘‘ کوئی شخص کسی کے ساتھ ظلم یا برائی کا ارتکاب کرے تو شریعت نے اس حد تک بدلہ لینے کی اجازت دی ہے،جس حد تک اس پر ظلم ہوا ہے۔آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ کہیں،اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہے (بشرطیکہ) مظلوم (جسے گالی دی گئی ہے،وہ جواب میں گالی نہ دے) زیادتی نہ کرے،بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ معافی اور درگزر کو زیادہ پسند فرمایا ہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ خود باوجود قدرتِ کاملہ کے عفو اور درگزر سے کام لینے والا ہے۔