کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 156
76۔تہمت کا وبال: 1۔سورۃ النساء (آیت:۱۱۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْئَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا} ’’اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کر لے،لیکن اس سے کسی بے گناہ کو متہم کرے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔‘‘ اگر کوئی شخص کسی پر زنا کی تہمت لگاکر اسے گواہوں کے ساتھ ثابت نہ کرسکے تو اس پر قذف (تہمت و بہتان ) کی سزا ہے،جو اسّی کوڑے ہے اور آیندہ کسی معاملے میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔[1] 2۔سورۃ النور (آیت:۱۱،۱۲) میں ارشاد الٰہی ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَ جَآئُوْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ لاَ تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْ بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ مَا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْھُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ . لَوْلآَ اِذْ سَمِعْتُمُوْھُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنفُسِھِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَا اِفْکٌ مُّبِیْنٌ } ’’جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے،وہ تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اور اس کو اپنے حق میں بُرا نہ سمجھنا،بلکہ وہ تمھارے لیے اچھا ہے۔ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا،اس کے لیے اتنا وبال ہے اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے،اس کو بڑا عذاب ہوگا۔جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں [1] تفصیل کے لیے دیکھیں : تفسیر سورۃ النور [آیت: ۴]