کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 149
سے بیس نیکیاں اور ’’وبرکاتہ‘‘ کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔[1] یہ حکم مسلمانوں کے لیے ہے،لیکن اہلِ کتاب و کفار کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اولاً تو انھیں سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے اور اگر وہ سلام کریں تو صرف وعلیکم کہنے پر اکتفا کیا جائے۔[2] 68۔قتلِ خطا کی دیت اور کفارہ: سورۃ النساء (آیت:۹۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَھْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّلَّکُمْ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَ اِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیْۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَھْلِہٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا} ’’اور کسی مومن کو شایاں نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کر دے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے۔ہاں اگر وہ معاف کر دیں (تو اُن کو اختیار ہے)،اگر مقتول تمھارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا [1] مسند أحمد (۴/ ۴۳۹) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۲۵۸) صحیح مسلم (۶/ ۲۱۶۳)