کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 148
66۔سفارش کرنے کا بدلہ: سورۃ النساء (آیت ۸۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْھَا وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مُّقِیْتًا} ’’جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بُری بات کی سفارش کرے،اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘[1] 67۔سلام کا جواب دینا: سورۃ النساء (آیت ۸۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَسِیْبًا} ’’اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں ) تم اُس سے بہتر (کلمے) سے (اُسے) دعا دو یا انھیں لفظوں سے دعا دے دو،بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔‘‘ بہتر کلمے سے جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ ’’السلام علیکم‘‘ کے جواب میں ’’ورحمۃ اللہ‘‘ کا اضافہ اور ’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ‘‘ کے جواب میں ’’و برکاتہ‘‘ کا اضافہ کر دیا جائے،لیکن کوئی ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘ کہے تو پھر اضافے کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ صرف ’’السلام علیکم‘‘ کہنے سے دس نیکیاں اور اس کے ساتھ ’’و رحمۃ اللہ‘‘ کہنے [1] تفصیل کے لیے دیکھیں : تفسیر ابن کثیر (۱/ ۵۹۲)