کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 145
اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے،جو خاندانی طور پر خانہ کعبہ کے دربان اور کلید برادر چلے آرہے تھے،مکہ فتح ہونے کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں تشریف لائے تو طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا،جو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہو چکے تھے اور انھیں خانہ کعبہ کی چابیاں دے کر فرمایا: ’’یہ تمھاری چابیاں ہیں،آج کا دن وفا اور نیکی کا دن ہے۔‘‘ آیت کا یہ سببِ نزول اگرچہ خاص ہے،لیکن اس کا حکم عام ہے اور اس کے مخاطب عوام اور حکام دونوں ہیں۔دونوں کو تاکید ہے کہ امانتیں انھیں پہنچائو جو امانتوں کے اہل ہیں۔اس میں ایک تو وہ اما نتیں شامل ہیں،جو کسی نے کسی کے پاس رکھوائی ہوں۔ان میں خیانت نہ کی جائے،بلکہ باحفاظت عندالطلب لوٹا دی جائیں۔دوسرے عہدے اور مناصب اہل لوگوں کو دیے جائیں،محض سیاسی بنیاد یا نسلی و وطنی بنیاد یا قرابت و خاندان کی بنیاد پر اقربا پروری میں عہدہ و منصب دینا،اس آیت کے خلاف ہے۔ اس آیت میں حکام کو بطور خاص عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ حاکم جب تک ظلم نہ کرے،اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کا ارتکاب شروع کر دیتا ہے تو اللہ اسے اس کے اپنے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔[1] 65۔اطاعتِ الٰہی و اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اختلافات کا حل: 1۔سورۃ النساء (آیت:۵۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ [1] سنن ابن ماجہ،کتاب الأحکام،رقم الحدیث (۲۳۱۲)