کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 140
60۔کنیزوں سے نکاح کا حکم و شرائط اور زنا کاری پر ان کی سزا: سورۃ النساء (آیت:۲۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ بَعْضُکُمْ مِّنْم بَعْضٍ فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَ اٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ذٰلِکَ لِِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ’’اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (بیبیوں ) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں ہی میں جو تمھارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کر لے) اور اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے،تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ اُن کے مالکوں کی اجازت حاصل کر کے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق اُن کا مہر بھی ادا کر دو بشرطیکہ عفیفہ ہوں،نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں،پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں کے لیے ہے،اُس کی آدھی اُن کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے،جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمھارے لیے بہت اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[1] [1] تفصیل کے لیے دیکھیں : تفسیر ابن کثیر (۱/ ۵۲۳)