کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 126
’’اے اہل ایمان! (کفار کے مقابلے میں ) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے رہو اور اللہ سے ڈرو،تاکہ مراد حاصل کرو۔‘‘ صبر کرو یعنی اطاعت کے اختیار کرنے اور شہوات و لذات کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔جہاد کے لیے تیار رہنا،یہ بڑے عزم اور حوصلے کا کام ہے،اسی لیے حدیث میں یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ’’اللہ کے راستے (جہاد ) میں ایک دن پڑاؤ ڈالنا دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے۔‘‘[1] 2۔سورۃ الفرقان (آیت:۲۰) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآ اِنَّھُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُونَ فِی الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً اَتَصْبِرُوْنَ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا } ’’اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں،سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمھیں ایک دوسرے کے لیے آزمایش بنایا ہے،کیا تم صبرو کرو گے؟ اور تمھارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے۔‘‘ 50۔تخلیقِ انسانی اور صلہ رحمی کا حکم: سورۃ النساء (آیت:۱) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا} ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو،جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا، [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۸۹۲) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۶۶۴)