کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 122
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْن} ’’مومنو! اللہ سے ڈرو،جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے،اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے،اس کا شکر کیا جائے اور اس کا کفر نہ کیا جائے۔[1] اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے احکام و فرائض پورے طور پر بجا لائے جائیں اور منہیات کے قریب نہ جایا جائے۔بعض کہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی کہ اللہ سے اپنی طاقت کے مطابق ڈرو،جس طرح کہ اپنی طاقت سے ڈرنے کاحق ہے۔[2] 2۔سورت آل عمران (آیت:۱۲۳) میں فرمایا: {۔۔۔فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } ’’پس تم اللہ ہی سے ڈرو (اورنہ کہ کسی اور سے ) تاکہ شکر کرو۔‘‘ 44۔اللہ کی رسی مضبوط پکڑو: سورت آل عمران (آیت:۱۰۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۲۴۱) [2] فتح القدیر بحوالہ أحسن البیان (ص: ۱۳۹)