کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 115
گئی تو پھر ایسے معاشرے میں ( قرضوں ) کی بہت ضرورت پڑتی ہے،کیوں کہ سود تو ویسے ہی حرام ہے اور ہر شخص صدقہ وخیرات کی استطاعت نہیں رکھتا۔اسی طرح ہر شخص صدقہ لینا پسند بھی نہیں کرتا۔پھر اپنی ضروریات و حاجات پوری کرنے کے لیے قرض ہی باقی رہ جاتا ہے۔اسی لیے احادیث میں قرض دینے کا بڑا ثواب بیان کیا گیا ہے۔تاہم قرض جس طرح ایک ناگزیر ضرورت ہے،جھگڑوں کا باعث بھی ہے۔اس لیے اس آیت میں،جسے ’’آیۃُ الدین‘‘ کہا جاتا ہے اور جو قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے،اللہ تعالیٰ نے قرض کے سلسلے میں ضروری ہدایات دی ہیں،تاکہ یہ ناگزیر ضرورت لڑائی جھگڑے کا باعث نہ بنے،اس کے لیے ایک حکم یہ دیا گیا ہے کہ مدت کا تعین کرلو،دوسرا یہ کہ اسے لکھ لو،تیسرا یہ کہ اس پر دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لو،جن کی دیانت داری اور عدالت پر مطمئن ہو۔ علاوہ ازیں قرآن کی اس آیت سے معلوم ہواکہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔نیز مرد کے بغیر صرف اکیلی عورت کی گواہی بھی جائز نہیں،سوائے ان معاملات کے جن پر عورت کے علاوہ کوئی اور مطلع نہیں ہو سکتا۔دو عورتیں جب ایک مرد گواہ کے برابر ہیں تو دو عورتوں اور قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا بھی جائز ہوگا۔[1] 35۔لکھنے سے انکار نہ کرنا: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۸۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ وَلْیَکْتُبْْ بَّیْنَکُمْْ کَاتِبٌم بِالْعَدْلِ وَلَا یَاْبَ کَاتِبٌ اَنْ یَّکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلْیَکْتُبْ} ’’مومنو! جب تم آپس میں کسی میعادِ معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے [1] مختصر تفسیر فتح القدیر للشوکاني (ص: ۱۸۹)