کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 112
اعتبار سے سودی رقم ہلاکت و بربادی ہی کا باعث بنتی ہے۔اس حقیقت کا اعتراف اب یورپی ماہرین معیشت بھی کرتے ہیں۔ 33۔اہلِ ایمان و عملِ صالح کی بے خوفی: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۷۷) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ} ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکات دیتے رہے،اُن کو اُن کے کاموں کا صلہ اللہ کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) اُن کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ -34 قرض دار کو مہلت دینا اور قرض کو لکھ لینا: 1۔سورۃ البقرۃ (آیت:۲۸۰ تا ۲۸۱) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ . وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَ ھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ} ’’اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اُسے) وسعت (کے حاصل ہونے تک) مہلت (دو) اور اگر (زرِقرض) بخش ہی دو تو تمھارے لیے زیادہ اچھا ہے،بشرطیکہ سمجھو اور اُس دن سے ڈرو جب کہ تم اللہ کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا۔‘‘ زمانہ جاہلیت میں قرض ادا نہ ہونے کی صورت میں سود در سود،اصل رقم میں