کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 109
کے معنیٰ ’’خوف کی نماز‘‘ ہیں۔یہ اس وقت مشروع ہے،جب مسلمان اور کافروں کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل جنگ کے لیے تیار کھڑی ہوں تو ایک لمحے کی غفلت مسلمانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے،ایسے حالات میں اگر نماز کا وقت ہو جائے تو صلاۃ الخوف پڑھنے کا حکم ہے،جس کی مختلف صورتیں حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔مثلاً فوج دو حصوں میں تقسیم ہوگئی،ایک حصہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا تاکہ کافروں کو حملہ کرنے کی جسارت نہ ہو اور ایک حصے نے آکر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،جب یہ حصہ نمازسے فارغ ہو گیا تو یہ پہلے کی جگہ مورچہ زن ہو گیا اور مورچہ زن پہلے والا گروہ نماز کے لیے آگیا۔بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں حصوں کو ایک ایک رکعت پڑھائی،اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت اور باقی فوجیوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔[1] 31۔پاکیزہ چیزوں ہی سے خرچ کرو: 1۔پارہ 3{تِلْکَ الرُّسُلُ}سورۃ البقرۃ (آیت:۲۵۴) میں فرمایا: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ وَ الْکٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ } ’’اے ایمان والو! جو (مال) ہم نے تمھیں دیا ہے،اُس میں سے اُس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کر لو،جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور نہ سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں۔‘‘ یہود و انصاریٰ اور کفار و مشرکین اپنے اپنے پیشوائوں،نبیوں،ولیوں،بزرگوں اور مرشدوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ پر ان کا اتنا اثر ہے کہ وہ اپنی [1] أحسن البیان (ص: ۲۱۲)