کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 104
27۔بیوہ کی عدت: 1۔سورۃ البقرۃ (آیت:۲۳۴) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْرًا فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ } ’’اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب (یہ) عدت پوری کر چکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (نکاح) کر لیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ تمھارے سب کاموں سے واقف ہے۔‘‘ {الَطَّلَاقُ مَرَّتَانِ}میں بتلایا گیا تھا کہ دو طلاق تک رجوع کرنے کا اختیار ہے،اب اس آیت میں کہا جا رہا ہے کہ رجوع عدت کے اندر اندر ہو سکتا ہے،عدت گزرنے کے بعد نہیں۔اس لیے یہ تکرار نہیں ہے جس طرح کے بہ ظاہر نظر آتا ہے۔ یہ عدتِ وفات ہر عورت کے لیے ہے،چاہے گھر میں رہے یا گھر کے باہر،جوان ہو یا بوڑھی۔البتہ اس سے حاملہ عورت مستثنیٰ ہے،کیونکہ اس کی عدت وضع حمل ہے۔اس عدتِ وفات میں عورت کو زیب و زینت کی( حتیٰ کہ سرمہ لگانے) اور خاوند کے مکان سے کسی اور جگہ منتقل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ مطلقہ کو دوبارہ نکاح کے لیے عدت کے اندر زیب و زینت ممنوع نہیں ہے۔ مطلقہ جس سے رجوع نہ ہو سکے،اس کے بارے میں اختلاف ہے،بعض جواز کے اور بعض ممانعت کے قائل ہیں۔یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب و زینت اختیار کریں۔اولیا کی اجازت و مشاورت سے کسی اور جگہ نکاح کا بندوبست کریں،تو اس میں کوئی حرج نہیں،اس لیے تم پر بھی(اے عورت کے والیو! ) کوئی