کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 102
رخصت کر دو اور اس نیت سے اُن کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہیے کہ اُنھیں تکلیف دو اور اُن پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے گا،وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور اللہ کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور اللہ نے تمھیں جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں،جن سے وہ تمھیں نصیحت فرماتا ہے،اُن کو یاد کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ 26۔رضاعت (دودھ پلانے )کے احکام: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۳۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ وَ عَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَھَا لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌم بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ’’اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اُس شخص کے لیے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اُس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ