کتاب: قرآن مجید کے حقوق - صفحہ 90
تو ان لوگوں کو سالم مولیٰ ابی حذیفہ جو کہ ابوحذیفہ کے غلام تھے نمازپڑھاتے جس کی وجہ یہ تھی کہ ((کَانَ اَکْثَرُہُمْ قُرْآنًا))[1]’’اس نے قرآن مجید باقی ساتھیوں سے زیادہ یاد کیا ہوا تھا ‘‘… اور حتیٰ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرما دیا جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ((یَؤُمَّ الْقَوْمَ أَقْرَأُہُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ۔)) [2] ’’قوم کا امام وہ بنے جو سب سے زیادہ پڑھنے والا (جو سب سے زیادہ قرآن مجید کا قاری ہے )۔‘‘ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا کَانُوْا ثَلَاثَۃً فَلْیَؤُمَّہُمْ أَحَدُہُمْ وَأَحَقُّہُمْ بِالْإِمَامَۃِ أَقْرَأُہُمْ۔))[3] ’’جب تین ہوں تو ان میں سے ایک نماز کروائے اور ان تینوں میں سے زیادہ حق وہ رکھتا ہے جو زیادہ قاری ہو۔ ‘‘ یہی وہ حفظ کا معیار تھا اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمرو بن سلمہ جن کی عمر بمشکل آٹھ سال تھی ان کو امام بنایا گیا اور جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ((کُنْتُ أَؤُمَّہُمْ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِیْنَ وَکَانَتْ عَلَیَّ بُرْدَۃٌ (مفتوقۃ) إِذَا سَجَدْتُّ تَقَلَّصَتْ عَنِّیْ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْحَیِّ أَ لَا تَغُطُّوْنَ عَنَّا اِسْتَ قَارِئِکُمْ۔)) [4] ’’میں آٹھ سال کا تھا تو ان کو (قوم کو ) نما زپڑھاتا تھا میرے پاس ایک ہی
[1] البخاری: 692۔ [2] مسلم: 290،291 وابن ماجہ: 980 والترمذی: 235 والنسائی: 779 وصحیح الجامع: 8011،8012۔ [3] مسلم:289 والنسائی:781،839۔ [4] البخاری:4302والسنائی:788،766۔