کتاب: قرآن مجید کے حقوق - صفحہ 34
میں بھی اس کی تکریم بے نظیر ہوگی کہ اس کو مقربین فرشتوں کی صف میں کھڑا کیا جائے گا۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمَاہِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ وَالَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیَتَتَعْتَعُ فِیْہِ وَہُوَ عَلَیْہِ شَاقٌّ لَہٗ أَجْرَانِ۔))[1] ’’قرآن مجید کا ماہر مقربین فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے لیکن زبان کی رکاوٹ سے (لکنت کی وجہ سے ) ہکلاتا ہے (اٹکتا ہے ) اور اس پر گراں گزرتا ہے تو اس کو دگنا اجر ملے گا۔ ‘‘ تو قرآن مجید جہاں دنیا میں قاری اور ماہر کو فضیلت مآب بناتا ہے وہاں قیامت کی ہولناکیوں میں بچائے گا کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : {یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمْ بِسُکٰرٰی } (الحج:2) ’’جس دن تم اسے (قیامت ) دیکھ لوگے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش (نشے والے، متوالے ) دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ مدہوش نہ ہوں گے۔ ‘‘ اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ((یَقُوْمُ أَحَدُہُمْ فِیْ رَشْحِہٖ إِلٰی أَنْصَافِ أُذُنَیْہِ۔)) [2] ’’(قیامت کے دن کہ جس دن ہر شخص اپنے رب کے لیے کھڑا ہوگا )اس حالت میں کھڑا ہوگا کہ اس کاپسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک پہنچا ہوگا۔ ‘‘
[1] البخاری: 4937 ومسلم :1859 وصحیح الجامع :6670،5497۔ [2] البخاری: 6531۔