کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 99
رسم عثمانی کے مطابق خواص کے لیے، اور دوسرا رسم قیاسی کے مطابق عامۃ المسلمین کے لیے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کو جہال کی تحریف اور ان کی تلاوت میں غلطی سے محفوظ کر دیا جائے اور اس میں مقاصد شریعت سے متفق مصلحت عامہ ہے۔ امام زرکشی رحمہ اللہ شیخ عزالدین بن عبد السلام سے نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔ ((قَالَ الشَّیْخُ عِزُّ الدِّیْنِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، لَا تَجُوْزُ کِتَابَۃُ الْمُصْحَفِ عَلٰی الرَّسُوْمِ الْأُوْلٰی بِإِصْطِلَاحِ الْأَئِمَّۃِ فِیْ تَغْیِیْرِ الْجُھَّالِ، وَلٰکِنْ لَّا یَنْبَغِِیْ إِجْرَائُ ھٰذَا عَلٰی إِطْلَاقِہٖ، لِئَلَّا یُؤَدِّیَ إِلٰی دُرُوْسِ الْعِلْمِ، وَشَیْئٌ أَحْکَمَتْہُ الْقُدَمَآئُ لَا یُتْرَکُ مُرَاعَاۃً لِجَھْلِ الْجَاھِلِیْنَ، وَلَنْ تَخْلُوَا الْأَرْضُ مِنْ قَآئِمٍ لِلّٰہِ بِالْحُجَّۃِ)) [1] شیخ عز الدین بن عبد السلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصطلاح أئمہ میں معروف رسوم اولی (یعنی رسم عثمانی) پر کتابت مصاحف جائز نہیں ہے، تاکہ اس میں جہال کی طرف سے تغییر واقع نہ ہو لیکن اس کا مطلق اجراء مناسب نہیں ہے، ورنہ ہر شخص کو علمی دروس میں حاضر ہونا پڑے گا، وہ شے جسے قدماء نے ثابت رکھا ہو، اسے جاہلوں کی جہالت کی رعایت کرتے ہوئے ترک نہیں کیا جا سکتا اور اللہ کے لیے دلیل پر قائم رہنے والے افراد سے زمین ہر گز خالی نہیں ہو گی۔‘‘ اس دلیل کا رد: مذہب ثانی کی دلیل ثالث میں اس پر رد گذر چکا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے قرآن مجید میں شک کا دروازہ کھل جائے گا، جب دو رسم ہوں گے تو ان میں سے صحیح کون سا ہو گا اور غلط کون سا ہو گا۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ راجح قول: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں لکھے گئے مصاحف کا رسم توقیفی ہے جو [1] البرھان: ۱/۳۷۹.