کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 97
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مصحف کی کتابت کرنا، ان کی علم ہجاء میں مہارت اور ہر علم کی تحقیق میں دقت فہم پر دلالت کرتا ہے۔‘‘[1] کتابت مصاحف میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غلطی کا دعوی کرنا، وعدہ حفاظت الٰہی سے متعارض ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴾ (الحجر: ۹) ’’ہم نے ہی اس ذکر کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘ دلیل نمبر۳: قواعد رسم قیاسی کی مخالفت کی وجہ سے رسم عثمانی عامۃ المسلمین کو مشقت میں ڈال دیتی ہے اور کتاب اللہ میں تحریف تک پہنچا دیتی ہے، لہٰذا مقاصد عامہ اور قواعد شریعت کے موافق مصلحت پر عمل کرتے ہوئے مصاحف کو جدید رسم قیاسی کے مطابق لکھنا واجب ہے۔ یہ شیخ عز الدین بن عبد السلام رحمہ اللہ کا قول ہے، فرماتے ہیں: ((لَا تَجُوْزُ کِتَابَۃُ الْمُصْحَفِ الْآنَ عَلٰی الرَّسْمِ الْأَوَّلِ بِإِصْطِلَاحِ الْأَئِمَّۃِ، لِئَلَّا یُوْقِعَ فِیْ تَغْیِیْرٍ مِنَ الْجُھَّالِ…))[2] ’’اصطلاح ائمہ میں معروف رسم اول (یعنی رسم عثمانی) کے مطابق اب کتابت مصاحف جائز نہیں ہے، تاکہ جہال کی جانب سے اس میں تغییر واقع نہ ہو۔‘‘ اس دلیل پر رد: امام ابن الحاج رحمہ اللہ اپنی کتاب المدخل میں اس دلیل پر رد کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’یہ علت ناقابل التفات ہے کہ عامۃ المسلمین رسم مصحف سے ناواقف ہیں، اور اس رسم کے مطابق لکھے ہوئے مصاحف سے تلاوت کرتے ہوئے ان سے غلطی سرزد ہوتی ہے، کیونکہ امت کے ہر فرد پر واجب ہے کہ وہ رسم مصحف اور تعلیم قراءت حاصل کرنے کے بعد، مصحف سے تلاوت کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا [1] النشر: ۱/۱۲ ببعض تصرف. [2] البرھان: ۱/۲۷۹.