کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 9
((ضَعُوْا ہٰذِہِ الْآیَۃَ فِی السُّوْرَۃِ الَّتِیْ یُذْکَرُ فِیْہَا کَذَا، قَبْلَ کَذَا وَبَعْدَ کَذَا…)) [1] ’’اس آیت مبارکہ کو اس سورۃ میں رکھو، جس میں ایسا ایسا تذکرہ ہے، اور اسے ایسی آیت سے پہلے یا ایسی آیت کے بعد رکھو۔‘‘ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذاتی طور پر بھی قرآن مجید لکھا کرتے تھے، اور وہ جو بھی پڑھتے یا لکھتے، اسے امانت و دیانت کے ساتھ محفوظ فرما لیتے۔ اگر کسی آیت مبارکہ کے بارے میں ان کا اختلاف ہو جاتا تو فرماتے کہ یہ آیت نبی کریم رضی اللہ عنہم نے فلاں بن فلاں کو پڑھائی ہے اور وہ مدینہ سے باہر چند میل…… ایک روایت میں ہے کہ تین میل …… کے فاصلے پر رہتا ہے۔ چنانچہ وہ مدینہ سے کسی شخص کو اس کے پاس روانہ کرتے اور اس سے پوچھتے: ((کَیْفَ أَقْرَأَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ آیَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ فَیَقُوْلُ: کَذَا وَکَذَا، فَیَکْتُبُوْنَ کَمَا قَالَ۔)) [2] ’’تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کیسے پڑھائی ہے؟ وہ کہتا: ایسے اور ایسے پڑھائی ہے۔ پس وہ اس کے بتلائے ہوئے قول کے مطابق لکھ لیتے تھے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھجور کی شاخوں، پاکیزہ ہڈیوں، چمڑے اور پتھر وغیرہ جیسے اس زمانے میں میسر وسائل پر قرآن مجید لکھا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پورا قرآن مجید بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سینوں میں محفوظ ہو چکا تھا، اور پیچھے بیان کیے گئے طریقے کے مطابق سطور میں لکھا بھی جا چکا تھا۔ مگر وہ متفرق جگہوں پر غیر مرتب السور حالت میں موجود تھا۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم [1] ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب من جھر بھا، أی بالبسملۃ، ترمذی، أبواب التفسیر، فی تفسیر سورۃ التوبۃ، وقال: حدیث حسن لا نعرفہ الا من حدیث عوف عن یزید الفارسی عن ابن عباس، مسند أحمد: ۱/۵۷،۵۹۔ نسائی،کتاب فضائل القرآن، مستدرک حاکم: ۲/۲۲۱، ۲۲۲، وابوداؤد فی المصاحف: ۱۲۳۰. [2] المقنع لابی عمرو الدانی:۸.