کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 89
قائم مقام بن سکے۔مثال کے طور پر ھاء تانیث کو کبھی تاء کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور کبھی ھاء کے ساتھ۔ اور ھاء تانیث کا یہ رسم کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ قراء ات قرآنیہ کے تابع ہے۔ قرآن مجید میں لفظ ﴿بَیِّنَۃٌ﴾ انیس (۱۹) مقامات پر آیا ہے۔ اس کو تمام مقامات پر ھاء کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ صرف ایک جگہ تاء کے ساتھ مکتوب ہے۔ ﴿ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَى بَيِّنَتٍ مِنْهُ ﴾ (فاطر:۴۰) اس کا سبب یہ ہے کہ اس ایک مقام پر قراء عشرہ کا اختلاف ہے۔ بعض قراء اسے ﴿بَیِّنَاتٍ﴾ جمع کے صیغے کے ساتھ، اور بعض قراء مفرد کے صیغے کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ چنانچہ اس کو تاء کے ساتھ لکھا گیا ہے تاکہ دونوں قراء ات کا احتمال باقی رہے۔ جبکہ دیگر تمام مقامات پر تمام قراء کرام بالاتفاق مفرد کے صیغے میں پڑھتے ہیں، لہٰذا انہیں ھاء کے ساتھ لکھا گیا ہے۔[1] ۲۔ بعض عرب لغات پر دلالت: رسم عثمانی کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ اس سے بعض عرب لغات پر دلالت ہوتی ہے اور اہل عرب اس امر پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ قرآن مجید ان کی لغت میں نازل ہوا ہے اور انہی کی لغت میں لکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بعض مقامات پر ھائے تانیث کو تائے مفتوحہ کے ساتھ لکھا گیا ہے، تاکہ لغت طی کے مطابق اس پر وقف بالتاء کیا جا سکے۔ جیسے: ﴿ إِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ (الاعراف:۵۶)، ﴿ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوهَا ﴾ (ابراہیم: ۳۴) اسی طرح بعض دفعہ بغیر جازم کے یاء مضارع کو حذف کر دیا جاتا ہے جیسے: ﴿ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ﴾ (ہود:۱۰۵) یہ قبیلہ ھذیل کی لغت ہے۔ یہاں لفظ ﴿ يَأْتِ ﴾ کے آخر سے بغیر جازم کے یاء حذف کر دی گئی ہے۔[2] [1] النشر: ۲/۱۲۹ و مابعدھا. [2] البرھان للزرکشی: ۱/۳۷۹.