کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 88
اور لوگ نفس مصحف میں اشکال کا شکار ہو جاتے۔ لہٰذا شامی شخص مصحف مصری سے، مغربی مصحف مشرقی سے تلاوت نہ کر سکتا، اور تقریباً وہی مشکلات پیدا ہو جاتیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پیدا ہوئی تھیں۔ اگر مصحف کو رسم قیاسی کے مطابق لکھا جاتا تو دشمنان اسلام کی جانب سے قرآن مجید کے کلمات و حروف میں تحریف کا دروازہ کھل جاتا۔ سد ذریعہ تشریع اسلامی کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی حرمت کو پامال کرنے والے پر ہر دروازے کو بند کرنا فرض اور واجب ہے اور اس دروازے کی بندش رسم عثمانی کی بقاء میں ہے۔[1] ۵۔ تلاوت قرآن مجید کے کچھ مخصوص احکام ہیں، جنہیں تلقی و مشابہت کے بغیر جاننا ناممکن ہے۔ تلقی اور مشافہت کی یہ سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک متصل ہو گی۔ یہ امتیاز صرف قرآن مجید کو حاصل ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو مختص کیا ہے۔ رسم عثمانی کی بقاء مسلمان ماہرین سے تلقی و مشافہت کی حرص پیدا کرتی ہے اور سند کا سلسلہ متصل رہتا ہے۔[2] ۶۔ رسم عثمانی میں بعض ایسے خصائص اور امتیازات پائے جاتے ہیں، جو رسم قیاسی میں نہیں پائے جاتے، ان امتیازات میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔ ۱۔ کلمہ میں وارد أوجہ قراء ات کی طرف اشارہ: جیسا کہ پہلے بھی مصاحف کی کیفیت کے بیان میں گذر چکا ہے کہ وہ مصاحف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت غیر منسوخ التلاوۃ حروف پر مشتمل تھے۔ اور قراء ات صحیحہ کی شرائط میں سے ایک شرط رسم مصحف کی موافقت بھی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسم عثمانی کا قراء ات قرآنیہ کے ساتھ بڑا مضبوط تعلق ہے، اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی دوسرا رسم اس کے [1] تاریخ المصحف الشریف للشیخ القاضی: ۸۶. [2] مع القرآن الکریم، حیدر قفۃ:۱۰۳.