کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 67
نے کتابت میں غلطی کی ہے۔‘‘ مذکورہ رائے کا رد: مذکورہ رائے کا متعدد پہلوؤں سے رد کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ یہ دعویٰ ہی باطل ہے کہ عربی کتابت عہد نبوی میں لغت کے تقاضوں کو پورا کرنے سے عاجز و قاصر تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کتابت جزیرہ عرب کے شمال میں بلاد أنباط میں پیدا ہوئی، پھر سیاست کے ماتحت مشرق کی طرف پھیل گئی اور عراق کے شہرحیرہ میں ارتقائی مراحل طے کرتی رہی اور اسلام سے قبل عراق عربی میں عام ہو گئی۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ مکہ میں عربی کتابت حیرہ سے آئی۔ لہٰذا یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ اہل مکہ نے اہل حیرہ سے کتابت سیکھ کر غیر قریش کو بھی سکھلائی ہو۔ [1] عہد اسلام سے قبل کے خطوط و نقوش سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب آمد اسلام سے تین صدیوں سے بھی زیادہ پہلے کتابت کیا کرتے تھے، اگرچہ ان میں کتابت بعثت نبوی کے قریب جا کر زیادہ معروف ہوئی۔ [2] مؤرخین نے ایسے متعدد افراد کے نام ذکر کیے ہیں جو دور جاہلیت میں کتابت سکھلایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک عمرو بن زرارۃ تھے، جنہیں کاتب کہا جاتا تھا۔ ایک غیلان بن سلمہ تھے، اور قبیلہ بنو ثقیف کتابت کے حوالے سے سب سے زیادہ مشہور و معروف تھا۔[3] لقیط بن یعمر ا لأیادی لغت عربی کا کاتب اور معروف شاعر تھا، وہ بلاد فارس میں ترجمان کی خدمات انجام دیا کرتا تھا۔ وہ اپنی قوم کی طرف خط لکھ کر کہتا ہے۔ سَلَامٌ فِی الصَّحِیْفَۃِ مِنْ لَقِیْطٍ اِلٰی مَنْ بِالْجَزِیْرَۃِ مِنْ أَیَادِ ’’سلام ہو، خط کے ٹکڑے میں، لقیط کی جانب سے، جزیرہ میں بنو ایاد [1] تاریخ العرب قبل الاسلام للدکتور جواد علی: ۷/۶۵. [2] مصادر الشعر الجاہلی: ۲۵. [3] مصادر الشعر الجاھلی: ۵۰.