کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 65
عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ الْقُرَشِیِّ، قَالَ: لَمَّا فُرِغَ مِنَ الْمُصْحَفِ أُتِیَ بِہٖ عُثْمَانَ، فَنَظَرَ فِیْہِ، فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ، أَرٰی فِیْہِ شَیْئًا مِن لَحْنِ، وَسَتُقِیْمُہُ الْعَرَبُ بِأَلْسِنَتِھَا)) [1] ’’حارث بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ عبد الأعلی بن عبد اللہ بن عامر القرشی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب مصحف مکمل کر لیے گئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لائے گئے۔ آپ نے ان میں دیکھا اور فرمایا: تم نے بہت [1] المقنع: ۱۲۱۔ سیر أعلام النبلاء: ۴/۴۴۲۔ معرفۃ القراء الکبار: ۱/۶۸۔ الدر المنثور: ۲/۷۴۵۔ کتاب المصاحف: ۱/۲۳۲۔ اہل علم نے اس اثر سے استدلال کرنے کا مناقشہ کیا ہے کہ اس اثر سے استدلال کرنا متعدد وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ امام دانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اثر ہمارے نزدیک حجت نہیں ہے، اور دو پہلوؤں سے غیر صحیح ہے۔ ۱۔ اس کی سند میں اختلاط اور الفاظ میں اضطراب ہے۔ یہ مرسل روایت ہے، کیونکہ ابن یعمر اور عکرمۃ نے نہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سماع کیا ہے۔ ۲۔ نیز اس روایت کے ظاہری الفاظ اس امر کی نفی کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کہا ہو گا۔ کیونکہ ان الفاظ میں آپ کی توہین و گستاخی پنہاں ہے۔ آپ تو دین اسلام میں بڑے بلند مقام پر فائز تھے اور امت کی اصلاح و خیر خواہی کے لیے دن رات کوشاں رہتے تھے۔ یہ ایک ناممکن سی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ امت کا اختلاف ختم کرنے کے لیے نقل مصاحف کی نگرانی کر رہے ہوں اور دوسری طرف وہ ان مصاحف میں ایسی غلطیاں چھوڑ دیں جنہیں بعد والے صحیح کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس اثر کے صحیح ثابت ہو جانے کی صورت میں آپ کا جواب کیا ہو گا؟ تو میں کہوں گا: یہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقصود بدون رسم تلاوت ہے۔ کیونکہ ایک ہی رسم سے مختلف معانی نکل سکتے ہیں: مثلاً: ﴿ أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ ﴾، ﴿وَلَأَوْ ضَعُوْا﴾ ، ﴿ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ﴾، ﴿ سَأُرِيكُمْ ﴾اور ﴿ الرِّبَوٰا﴾اگر ان الفاظ کو حقیقت رسم کی معرفت کے بغیر اشباہ سے پڑھا جائے تو ایجاب نفی میں تبدیل ہو جائے گا، اور لفظ میں ایک ایسا حرف زیادہ ہو جائے گا جو اس میں شامل نہیں ہے۔ لہٰذا سننے والے کو غلطی لگ جائے گی۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس رسم کو دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ اس لحن کو عرب خود ہی درست کر لیں گے۔ کیونکہ قرآن مجید انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ وہ اس کی حقیقت اور اس سے تلاوت کرنے کو بخوبی جانتے ہیں۔ المقنع: ۱۱۹ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ یہ خبر باطل ہے اور چند وجو ہ سے غیر صحیح ہے۔ (۱) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھوٹے سے چھوٹے منکر پر بھی فوراً انکار کر دیتے تھے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ قرآن مجید غلط پڑھتے رہے ہوں اور کسی نے اس پر انکار نہ کیا ہو ، اور پھر اسے درست کرنے میں کوئی مانع بھی نہ ہو۔ (۱) عرب اپنی کلام میں غلطی کو انتہائی قبیح جانتے تھے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ قرآن مجید میں غلطی کی قباحت کو باقی رکھتے۔ (۲) ﴿ستقیمہ العرب بألسنتھا﴾ سے حجت پکڑنا غیر صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید عربی اور عجمی دونوں پڑھتے ہیں۔ (۳) صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ لفظ ﴿التابوت﴾ کی تاء کو لغت انصار پر لکھنا چاہتے تھے، مگر ساتھیوں نے منع کر دیا۔ چنانچہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اس تاء کی بابت پوچھا: تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ تاء، لغت قریش کے مطابق لکھنے کا حکم دیا… اسی طرح جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو علم ہوا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿عتی حین﴾ لغت ھذیل پر پڑھاتے ہیں تو فوراً اس کا انکار کر دیا اور فرمایا: لوگوں کو لغت قریش کے مطابق پڑھاؤ، کیونکہ قرآن مجید اس لغت پر نازل ہوا ہے۔ لغت ھذیل میں نازل نہیں ہوا ہے۔ (مجموع الفتاویٰ:۱۵/۲۵۲ … ۲۵۵).